سائنسی مضامین لکھتے ہوئے ذاتی احساسات کو اہمیت نہیں دی جاتی کہ سائنس اور سائنسدان ابدی سچ کے متلاشی ہیں۔ سائنس میں اگر احساسات ایک حد سے آگے نکل جائیں تو اپنا تاثر کھو دیتے ہیں۔ مگر آج ایک غمگین دن ہے۔ وائن برگ پہ ایک تکنیکی مضمون پھر کسی وقت سہی مگر آج ہر طرح کی رعایت لی جا سکتی ہے۔ جیسے آج گفتگو کے دوران علی شہباز نے کہا: “احساسات کو سمجھایا نہیں جاتا، اپنایا جاتا ہے اور پھر اظہار کے کینوس پر پھینک دیا جاتا ہے۔ دیکھنے والا اِن میں سے جو چاہے معنی نکال لے۔” آج اُس عظیم سائنسدان نے اپنا سفر موقوف کیا ہے جو پچھلی چھ دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے طبیعیات کے ماتھے کا جھومر رہا ہے۔ اسٹیون وائن برگ کے جانے کا صدمہ میرا اکیلے کا نہیں ہے۔ جس کی جانب دیکھ لیں، سب کی ایک سی کیفیت ہے۔ اِس نیلے سیارے کے طول و عرض میں پھیلے لاکھوں طلبا ایسے ہیں، جنہوں نے کبھی وائن برگ کو بالمشافہ نہیں دیکھا، مگر وائن برگ نے اُن کو متاثر کیا ہے۔

اسٹیون وائن برگ 3 مئی 1933ء کو نیو یارک میں پیدا ہوئے اور 88 برس کی بهرپور اور طویل عمر گزاری۔ وائن برگ نے 1954ء میں بیچلر کی ڈگری کارنیل یونیورسٹی اور ڈاکٹریٹ 1957ء میں پرنسٹن یونیورسٹی سے کیا۔  وائن برگ بیسویں صدی کے سائنسدانوں کی دوسری نسل کے سرخیل ہیں۔ یہ سائنسدانوں کی وہ لڑی ہے جنہوں نے کوانٹم میکانیات اور عمومی اضافیت کے نظریات کو اپنی موجودہ معراج تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وائن برگ نے اپنی تحقیق کا آغاز ذراتی طبیعیات اور کوانٹم فیلڈ تھیوری سے کیا مگر اپنی ہمہ جہت شخصیت اور غیر معمولی ذہانت کی بدولت جدید طبیعیات کے ہر میدان میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے۔ وائن برگ کو 1979ء میں ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر شیلڈن گلاشو کے ساتھ کمزور نیوکلیائی قوت اور برقناطیسی قوتوں کے اتحاد پر نوبیل انعام بھی دیا گیا۔ اِس تکڑی سے اب صرف شیلڈن گلاشو بقیدِ حیات ہیں۔

سائنس میں شخصیت پرستی کا کوئی تصور نہیں۔ پھر چاہے وہ نیوٹن ہو، آئن اسٹائن یا ہاکنگ۔ سائنس کو شخصیات کی بجائے ہمیشہ حقائق اور سچ میں دلچسپی رہی ہے۔ مگر شاید میرے لیے وائن برگ کا معاملہ کچھ اور ہے۔ میری وائن برگ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ وائن برگ پچھلی دو دہائیوں میں کبھی پاکستان بھی نہیں آئے، سلام صاحب زندہ ہوتے تو شاید وہ بلا بھی لیتے۔ وائن برگ سے میرا پہلا تعارف ہائی اسکول میں “پہلے تین منٹ” (دی فرسٹ تھری منٹس) سے ہوا۔ میں جسے سائنس کی ایک عام سی کتاب سمجھ رہا تھا وہ کچھ سمجھ میں آئی، بہت سی باتیں سر کے اوپر سے گزر گئیں مگر اِس کتاب میں کچھ ایسا تھا کہ جس نے خود کو ذہن سے محو نہیں ہونے دیا۔ ماسٹرز کا تھیسز لکھتے ہوئے ڈاکٹر مقبول احمد نے جو چند ابتدائی مشورے دیے اُن میں اِسی کتاب کو دوبارہ سے پڑھنا بھی تھا۔ عموماً کسی نوبیل انعام یافتہ سائنسدان سے ایسی توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ اِس قدر عام فہم انداز میں دقیق سائنسی نظریات کی توضیح و تشریح کرے مگر یہ بھی وائن برگ کا ہی خاصہ تھا۔ وائن برگ سے دوسرا تعارف 1989ء میں لکھا گیا ریویو پرچہ”کونیاتی مستقل کا مسئلہ” (دی کاسمولوجیکل کانسٹنٹ پرابلم) تھا۔ صرف تئیس صفحات پر مشتمل یہ مقالہ بلاشبہ وائن برگ جیسے سائنسدان کا ہی کارنامہ ہو سکتا ہے۔ یہ تحریر اُس وقت تک نا مکمل رہے گی جب تک وائن برگ کی دو کُتب”دی کوانٹم تھیوری آف فیلڈز” اور “گریویٹیشن اینڈ کاسمولوجی” کا ذکر نہ کیا جائے۔ دقیق موضوعات اور اندازِ بیان انہیں درسی سے زیادہ حوالے کی کُتب بناتے ہیں۔ خالصتاً تکنیکی کُتب لکھتے ہوئے شاید وائن برگ اپنے اِس نظریہ پر سختی سے کاربند رہے کہ “کسی تصور کو کسی طالب عالم کو سمجھاتے ہوئے آپ صرف اُس کا سانچہ دکھانے پر اکتفا نہیں کر سکتے۔ کیا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ ہم اِس تکنیک کا استعمال اِس لیے کر رہے ہیں کہ تجربات اِس سے اتفاق کرتے ہیں؟ نہیں۔ آپ کو سمجھانا ہو گا کہ وہ سانچہ کیسے تخلیق ہوا ہے، یہ دنیا ایسی کیوں ہے جیسی نظر آتی ہے۔ یہی تو طبیعیات میں ہمارا مقصد ہے۔ ہمارا مقصد چیزوں کو بیان کرنا نہیں، اُن کی وضاحت کرنا ہے۔” یہ چیز یقیناً وائن برگ کی کتب کو دیگر درسی کتابوں سے مشکل ضرور بناتی ہے مگر سوچنے کا ایک نیا نظریہ بھی فراہم کرتی ہے۔

وائن برگ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ پاپولر سائنس پہ وائن برگ کی کُتب اِس لیے بھی اِس قبیل کی دیگر کتابوں سے مختلف ہیں کہ اِن میں سائنسی حقائق کے ساتھ تاریخ اور فلسفہ کا ایک حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ یہ ایسی باریک لکیر ہے جو پاپولر سائنس کی بیشتر کتابوں میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ اِن میں “دی فرسٹ تھری منٹس” اور “ڈریمز آف اے فائنل تھیوری” کو بطورِ حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ وائن برگ نے 2018ء میں اپنے پچیس مضامین کا مجموعہ “تھرڈ تھاٹس” کے نام سے شائع کیا۔ سائنسی تاریخ، فلکیات، ذراتی طبیعیات، سیاسیات، خلائی سائنس اور ذاتی دلچسپی کے موضوعات پر مشتمل یہ کتاب پڑھنے والے جانتے ہوں گے کہ اِس کتاب کے دیباچہ میں وائن برگ نے اظہار کیا تھا: “مجھے امید ہے کہ یہ میرا آخری مجموعہ نہیں ہو گا۔ لیکن حقیقت پسندی کے پیش نظر، شاید یہ میرے لیے قارئین کا شکریہ ادا کرنے کا اچھا موقع ہے جنہوں نے اِن گزرتے برسوں میں میری فہم اور وضاحتوں کو برداشت کیا اور مجھے طبیعیات سے پرے ایک قیمتی دنیا کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔” یقیناً یہ سطریں پڑھتے ہوئے بہت سوں نے کہا ہو گا کہ کاش ایسا نہ ہو مگر کیا کیجے۔۔۔ علم کے اِس مسافر نے اپنی آخری کتاب “فاؤنڈیشنز آف ماڈرن فزکس” اپنی وفات سے چار ماہ قبل اور اپنا آخری تحقیقی مقالہ “آن دی ڈیویلپ منٹ آف ایفیکٹو فیلڈ تھیوری” جنوری 2021ء میں شائع کروایا۔ یعنی علم کی ایسی پیاس جس نے آخری دم تک بے چین کیے رکھا۔

اکثر اوقات ایک سوال ذہن میں آتا ہے: “سائنسدان اتنے متاثر کُن کیوں ہوتے ہیں؟ یہ صحیح معنوں میں عظیم کیوں ہوتے ہیں؟” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر، نفرت کا ایک لفظ ادا کیے بغیر اربوں انسانوں کی زندگیوں پہ بالواسطہ اور بلاواسطه اثر ڈالا ہے، انہیں متاثر کیا ہے، انہیں روشنی دکھائی ہے۔ وہ روشنی جو مدھم نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ ہر مذہب، قوم، ملک، رنگ، نسل، ذات، پات سے بالاتر ہو کر صرف سچ کی راہ کے مسافر رہے ہیں۔ جو پایا اُسے بغیر کسی مالی منفعت اور ذاتی مفاد کے لوگوں تک پہنچایا۔ یہ وہ درخت ہے جو ان کے جانے کے بعد بھی پھل دیتا رہے گا۔ جب تک یہ کائنات (اور جتنی بھی کائناتیں ہیں) اپنی بے بسیط وسعتوں اور پنہاں رازوں کے ساتھ موجود ہیں، مخلوقات اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اِن سے مستفید ہوتی رہیں گی۔ اسٹیون وائن برگ بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔

وائن برگ کا شکریہ دنیا کے معلوم علم میں بے پناہ اضافہ کرنے کے لیے۔ وائن برگ کا شکریہ اپنی درسی کُتب کے ذریعے تشنگانِ طبیعیات کی پیاس بجھانے کے لیے۔ وائن برگ کا شکریہ اپنی عام فہم تحاریر کے ذریعے لوگوں کو سائنس کی جانب متوجہ کرنے کے لیے۔ وائن برگ کا شکریہ ہمیں سوچنے کا نیا ڈھنگ دینے کے لیے۔ وائن برگ کا شکریہ ہمیں ابدی سچ کی نئی جہات سے متعارف کروانے کے لیے۔

Comments to: طبیعیات کے ماتھے کا جھومر: اسٹیون وائن برگ

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

    Login

    Welcome to Spectra Magazine