زمانۂ قدیم میں انسان فطرت کے قوانین و مظاہر سے اس قدر آشنا نہ تھا جتنا کہ آج کے دور میں ہے۔ زمین و آسمان پر ہونے والے مختلف واقعات اسے خوف زدہ کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ انسان نے اپنے ابتدائی دور میں سورج، ستارے، آگ ،بجلی حتیٰ کہ حیوانات تک کو اپنا معبود تسلیم کر لیا تھا۔

رعد یعنی آسمانی بجلی بھی فطرت کا ایسا مظہر ہے جس سے بے شمار دیو مالائی داستانیں منسوب ہیں۔ قدیم یونانی اسے دیوتا کا ہتھیار تصور کرتے تھے جو جب چاہتا غضب میں آکر نیزے کی طرح بجلی پھینک دیتا۔ یہاں مارول سیریز کے کردار تھور کا ذکر دلچسپی سے خالی نا ہوگا،جسے طوفان کا نیتا دکھایا گیا ہے اور فلم میں آسمانی بجلی پر اس کا مکمل اختیار  و استعمال دیکھنے والوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے ۔ مگر خیر یہ تو ایک فرضی کردار ہے ۔ آسمانی بجلی کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس کی طاقت اور اس کے جانداروں پرکیا اثرات ہیں ؟ اس کے بننے کا عمل اور اس سے در پیش ممکنہ خطرات سے بچنے کے طریقے کیا ہوسکتے ہیں ؟ ان تمام سوالوں کا جواب ڈھونڈنے اور اس مضمون میں دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

سائنسی تحقیقات کے ذریعے مہیا ہونے والی معلومات نے جہاں آسمانی بجلی کے بننے کی وجوہات و اسباب سے پردہ وا کیا ہے وہیں اس کے نقصانات سے بچنے کی تدابیر بھی مربوط و منظم تجربات کی بنیاد پر وضع کی ہیں۔آسمانی بجلی، جسے ایٹماسفیرک الیکٹریسٹی کہا جاتا ہے، کو سمجھنے کے لئے چند بنیادی باتوں کا علم ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو چارجز کا تصور اہم ہے۔ بجلی دو قسم کے چارجز پر مشتمل ہوتی ہے یعنی مثبت اور منفی ۔ ایسی دو اشیا جو ایک جیسا چارج رکھتی ہیں اور قریب آنے پر ایک دوسرے کو پرے دھکیلتی ہوں اور ایسی دو اشیا جو مخالف چارج رکھتی ہوں اور قریب آنے پر ان میں ایک دوسرے کیلئے کشش کی قوت پائی جا تی ہے مثبت اور منفی ذرات کہلاتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ مادے کے چھوٹے سے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں۔ ایسی اشیا جن میں سے بجلی کی لہر گزر سکتی ہے جیسا کے دھاتیں وغیرہ کنڈکٹر کہلاتی ہیں۔

 سائنس کی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ گرج چمک والے بادلوں میں سے جب ہوا گزرتی ہے تو بادلوں میں موجود پانی کے قطرے مثبت اور منفی چارج میں ٹوٹ جاتے ہیں۔ ان بڑے ٹکڑوں کا چارج مثبت جبکہ چھوٹے ٹکڑوں کا چارج منفی ہوتا ہے۔ جوں جوں ان چارجز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے بجلی کا چارج زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ منفی چارج والے ٹکڑے اوپر چلے جاتے ہیں اور بادل کی اوپر والی سطح پر منفی جبکہ نیچے والی سطح پر مثبت چارج آجاتا ہے۔ اس سے نیچے زمین کی سطح پر منفی چارج آجاتا ہے۔ اس طرح ہم مثبت اور منفی چارجز کی تہیں بادلوں سے زمین تک تصور کر سکتے ہیں۔

ہا نی کے قطروں کی مثبت اور منفی تہوں میں وولٹیج کا اضافہ ہوتا جا تا ہے۔ وولٹیج میں جوں جوں اضافہ ہوتا ہے چارجز کے باہمی ملاپ سے بجلی کی چمک پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں کنڈکشن کی قوت بڑھتی ہے اور بجلی کا ڈسچارج بار بار ہونے لگتا ہے۔ ذہن میں رہے کہ یہ ڈسچارج بادل کی دو تہوں کے درمیاں ہوتا ہے اور یہ زمین پر اثر انداز نہیں ہوتا اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کے زمین پر اس عمل کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔اس عمل کے ساتھ ہی چند سیکنڈز کے اندر بادل اور زمین کے درمیان بجلی کا ڈسچارج شروع ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہوا کے کالم کا درجہ حرارت فوری طور پر دس ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، یہ درجہ حرارت اس قدر ہے جیسا کے بم پھٹنے سے ہوتا ہے۔

اس عمل سے ہوا کے کالم کے محور کے گرد دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ دباؤ آواز کی رفتار سے باہر کی جانب پھیلتا ہے ہوا کے زور دار سکڑنے اور پھیلنے کے اثرات انسانی کانوں تک گرج کی صورت میں پہنچتے ہیں۔ اگر بجلی کا یہ ڈسچارج زمین سے نزدیک ہو تو اس کی آواز کانوں میں دھماکے کی شکل میں پہنچتی ہے اور اگر فاصلہ زیادہ ہو تو آواز گڑگڑاہٹ کی شکل میں پہنچتی ہے ۔ چونکہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار کی نسبت زیادہ ہے اس لیے بجلی کی چمک پہلے دکھائی دیتی ہے اور گرج کچھ وقفے کے بعد سنائی دیتی ہے۔

یہ تو ہے آسمانی بجلی کے بننے کا عمل، اکثر اوقات آسمانی بجلی گرنے کے واقعات وقوع پزیر ہوتے رہتے ہیں جو جانی و مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ بجلی گرنے کے عمل کی بھی سائنس کی رُو سے وضاحت کی جا سکتی ہے اور نا خوشگوار واقعات سے بچاؤ کی تدابیر بھی کی جا سکتی ہیں۔ بجلی گرنے سے ہونے والے نقصان کی وجہ یہ ہے کہ جو شے بھی اس کی زد میں آتی ہے جل جاتی ہے۔ گرمی کی شدت سے دھات سے بنی ہوئی اشیا پگھل جاتی ہیں۔ درختوں کے یا تو چھلکے اتر جاتے ہیں یا ان کے اندر کے پانی کے پھیلاؤ کی وجہ سے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔

ہوا میں بجلی کی مثال ایسے ہے جیسے ایک پانی گرم کرنے والا برتن جسے بوائلر کہتے ہیں ، جو بالکل بند ہو اور اس کے نیچے آگ جل رہی ہو۔ اس برتن کے اندر بھاپ کا دباؤ ہو گا ۔ اب اگر کوئی شخص اس برتن کے نزدیک بیٹھا ہے اسے اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں لیکن اگر وہ شخص اس برتن میں سوراخ کرنا شروع کردے تو سوراخ کے پیدا ہوتے ہی بھاپ تیزی سے برتن میں  سے نکل کر اس شخص کو جلا دے گی۔ دوسرے لوگ جو برتن سے دور موجود ہوں انہیں اس سے کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اس سوراخ کرنے والے شخص کو نقصان محض اتفاقیہ نہیں ہوا، بلکہ اس کی وجہ اُس کا اپنا عمل تھا، بالکل اسی طرح جب ہوا میں بجلی ہو تو بادل سے لے کر زمین تک سارا ماحول بجلی کی لہروں سے بھرپور ہوتا ہے ۔ بادل کی دو تہوں کے درمیان یا بادل اور زمیں کے درمیان بجلی کا ڈسچارج اس وقت ہوتا ہے جب ان کے درمیان بجلی کے ڈسچارج کو روکنے کی قوت کم ہو جائے، اس قوت کو مزاحمت یا رزسٹنس کہتے ہیں۔

دھات سے بنی ہوئی چیزیں کنڈکٹر کہلاتی ہیں۔ ان میں سے بجلی کی لہریں فورا گزر جاتی ہیں اگر بجلی کی تار کا ایک سرا بجلی سے بھرپور اس نمدار ہوا کے اندر ہو اور دوسرا سرا زمین کے اندر ہو تو بجلی کی لہر اس دھات میں سے گزر کر بغیر کچھ پیدا کیے ، چپکے سے زمین کے اندر چلی جاتی ہے اسی طرح ایک اونچا درخت بھی ، جس کی جڑیں نمدار زمیں سے مَس کرتی ہوں تو اس میں بھی یہی عمل ہوگا، لیکن اگر بجلی کی رو میں شدت زیادہ ہو تو درخت جل جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بجلی گرتے وقت کوئی انسان اس درخت کے نیچے کھڑا ہو تو محفوظ رہ سکتا ہے کیونکہ بجلی درخت میں سے گزر کر زمین کے اندر چلی جاتی ہے۔ البتہ اگر درخت کی کوئی شاخ جل کر اس شخص کے اوپر گر جائے تو نقصان ہو سکتا ہے۔

 کئی بار کسی شخص پر بجلی گرنے کے واقعات سامنے آتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کا جوا ب یوں دیا جا سکتا ہے کہ انسان پر بجلی اس وقت گرتی ہپے جب وہ کنڈکٹر بن جائے اور اس کی روکنے کی طاقت یعنی رزسٹنس ارد گرد کی نمدار ہوا کی نسبت آدھی سے بھی کم رہ جائے۔ فرض کیجیے ایک شخص نے پانی کے نلکے کو جو گیلی زمین میں گڑا ہوا ہے ہاتھ سے پکڑ رکھا ہے یہ نلکا بجلی کا اچھا کنڈکٹر ہے چنانچہ دھات اور اس شخص دونوں کی مجموعی رزسٹنس کم ہو تو بھی اس شخص کے جسم میں سے گزر کر جائے گی لیکن اگر وہ شخص اس نلکے کے پاس کھڑا ہے اور اس کو چھو نہیں رہا تو بجلی اس پر کوئی اثر نہیں کریگی۔خشک چیزوں کی نسبت گیلی چیزیں بہتر کنڈکٹر ہوتی ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی شخص گرج چمک والی بارش میں خود کو خشک رکھے اور دھات کی کسی بھی شے کو جو زمیں میں گڑی ہوئی ہو ، نا چھوئے تو وہ بالکل محفوظ ہے۔

آسمانی بجلی سے حفاظت کے لیے چند چیزوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ کپڑے پھیلا کر خشک کرنے والی لوہے کی تار خطرناک ہوتی ہے، اسی طرح بجلی کے کھمبے ڈاک کے بکس ، گھر میں پانی کے پائپ اور ریڈی ایٹر سب پرخطر ہیں۔ گرج چمک والی بارش میں بجلی ، ریڈیو اور ٹیلیفون کی تاروں کو نہیں چھونا چاہیے۔ گھر کی کھڑکی کُھلی رکھی جائے یا بند اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بجلی کی لہر ہر شے سے گُزر سکتی ہے۔

بجلی کی رُو سے بچنے کے طریقے وضع کئے گئے ہیں جو کہ یہ ہیں۔ ایسی بلڈنگ جس میں زمین دوز لوہے کے ڈنڈے یا راڈز لگے ہوئے ہوں ، کھلی جگہ کی نسبت محفوظ ہے۔ اگر انسان کھلی جگہ پر موجود ہے تو پہاڑ کی نسبت وادی زیادہ محفوظ ہے لیکن درخت کے نیچے نہیں ، لیکن اگر درخت موجود ہو تو اکیلا اونچا ا درخت ، درختوں کے جُھنڈ کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ دھات کے ایسے راڈز جو زمین کے اندر جاتے ہوں بجلی کی رُو سے بچنے کا بہتر ذریعہ ہیں۔ جو چیز بہتر کنڈکٹر ہے ایسی اشیا کو چھونے سے گریز کرنا چاہیے۔ درختوں کی نسبت کھلی جگہ محفوظ ہے، جتنے زیادہ درخت اور عمارتیں ہوں گی، اُتنے ہی بجلی کی رُو کے گزرنے کے راستے زیادہ محفوظ ہوں گے اور ہر شے میں بجلی کی رُو کی شدت کم ہوگی۔ چنانچہ شہری آبادی میں موجود مکان کی کسی کھیت میں اکیلے مکان کی نسبت زیادہ محفوظ ہو گا اور اسی طرح جنگل کے درخت اکیلے درخت کی نسبت زیادہ محفوظ ہوں گے۔ کسی بلڈنگ کی دیواروں اور چھتوں میں استعمال ہونے والے لوہے کو چھوتا ہوا ایک لوہے کا ایک ٹکڑا اگر زمین دوز کر دیا جائے تو بلڈنگ محفوظ ہے۔

People reacted to this story.
Show comments Hide comments
Comments to: آسمانی بجلی
  • 2021-08-27

    Very informative well done Asra👍🥰

    Reply

Write a response

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Login

Welcome to Spectra Magazine